حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، آیت الله نوری ہمدانی نے تہران کے ائمہ جمعہ و جماعت سے ملاقات میں، علماء کی ذمہ داری کو بہت ہی اہم اور اثر گزار قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم ایک اہم موڑ سے گزر رہے ہیں اور آج دشمن سائبر اسپیس میں علماء پر پوری طرح سے حملہ آور ہے، لہٰذا علماء کو بھی میدان میں آنا چاہیے۔ آج امام جماعت کی ذمہ داری صرف نماز پڑھانا نہیں ہے، بلکہ عوام کے حالات سے آگاہ رہتے ہوئے میدان کو خالی نہ چھوڑنا بھی علماء کی ذمہ داری ہے۔
انہوں نے خواص کی فتنوں میں خاموشی یا دیر سے اظہارِ نظر اور مؤقف اختیار کرنے پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ نہیں معلوم خواص کس فکر میں ہیں؟ کیا وہ یہ فکر کر رہے ہیں کہ اسلامی جمہوریہ ختم ہو جائے تو دشمن خدا، قرآن اور اہل بیت علیہم السّلام کا کوئی اثر باقی رہنے دیں گے؟ ہم سب نے حالیہ فتنوں میں دیکھا کہ فسادیوں نے عوام، مساجد اور امام بارگاہوں کے ساتھ کیا کیا اور قرآن کو کس طرح نذر آتش کیا؟
آیت الله ہمدانی نے مزید کہا کہ کیا حقیقت میں یہ سب اقتصادی مسائل کے لیے کیا گیا؟ بلا شبہ عوام سختی میں زندگی بسر کر رہے ہیں، لیکن عوام کا قتلِ عام اور تمام جگہوں پر آگ لگانے والے جنایتکار عوام نہیں تھے۔
مرجع تقلید نے مزید کہا کہ حالیہ فسادات میں امریکی صدر باقاعدہ آیا ہے اور فسادیوں کو امید دلائی اور حالیہ دنوں رہبرِ معظم کو دھمکی بھی دی؛ البتہ وہ جواب کا قابل نہیں ہے، لیکن وہ جان لے! آیت الله خامنہ ای کی ذات پر ایک فقیہ اور امت مسلمہ کے رہبر کے عنوان سے کسی قسم کا حملہ محاربہ (خدا و رسول سے جنگ کرنے) کے حکم میں آتا ہے؛ اس بات کو ہم نے پہلے بھی فقہی دلائل سے واضح کیا ہے، لہٰذا توقع کی جاتی ہے کہ تمام علمائے کرام میدان میں آئیں اور رہبرِ معظم کی حمایت کریں! ہم رہبرِ معظم کی حمایت کو صرف ایک سیاسی امر نہیں سمجھتے، بلکہ شرعی ذمہ داری سمجھتے ہیں۔









آپ کا تبصرہ